fazal umer

12 Flips | 1 Magazine | 1 Follower | @fazal157 | Keep up with fazal umer on Flipboard, a place to see the stories, photos, and updates that matter to you. Flipboard creates a personalized magazine full of everything, from world news to life’s great moments. Download Flipboard for free and search for “fazal umer”

شہزاد نیر صاحب کا کلام۔۔۔۔۔ تصویر مجھے بہت پسند ہے۔ اس لیئے آج پھر یہی اٹیچ کر رھا ہوں۔ " اُفق کے پار جانے والے آنسو" سفید آنچل کے ایک کونے میں میرے آنسو سنبھال کر اس طرح وہ بولی نہ ایسے رونا اے میرے بچے ! یہ زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام ھے دُکھوں کا تمہارے آنسو مرے جگر پر ٹپک پڑے ہیں نہ ایسے رونا اے میرے بچے ! میں روتے روتے ھی سو گیا تھا اُفق کے اُس پار سے میری ماں مرے دُکھوں پر اداس ھو کر مری تسلی کو آن پہنچی وھی مقدس ، ندیم آنکھیں رحیم آنکھیں ، کریم آنکھیں اُفق کے اُس پار سے جو مجھ کو بڑی محبت سے دیکھتی ہیں مری نگاھوں سے دور لیکن مرے دُکھوں کی نمی سے جھلمل وہ میرے اشکوں کواپنے پلّو میں باندھ کر آسماں کے اُس پار لے گئی ھے یہ لوگ کہتے ہیں : مائیں مرتی ھیں مائیں مر کر بھی جاگتی ہیں جو بچے روئیں تو سوتی کب ھیں !! -SuleMan-

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا میں کم شناس مروت میں مارا جاؤں گا میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا مجھے بتایا ہوا ہے میری چھٹی حس نے میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا میرا یہ خون میرے دشمنوں کے سر ہوگا میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا یہاں کمان اٹھانا میری ضرورت ہے وگرنہ میں بھی شرافت میں مارا جاؤں گا فراغ میرے لۓ موت کی علامت ہے میں اپنی پہلی فراغت میں مارا جاؤں گا میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا

ماں کا قرض: ------------- مجھے اب تک وہ بچپن کی نمازيں یاد آتی ھیں نہ جب آیات آتی تھیں نہ جب قرآن آتا تھا مگر یہ علم تھا مولا دعائیں ساری سنتا ھے نمازی کے مصلے کے تلے وہ نوٹ رکھتا ھے جنہیں مائیں نہیں لیتیں مگر بچوں سے کہتی تھیں کہ جتنے مانگے تھے پیسے یہ اس سے کم ھیں یا زیادہ تو بچے ھنس کے کہتے تھے ھمیشہ کم نکلتے ھیں تو مائیں زور دیتی تھیں دعائیں بارھا مانگو تو پورے نوٹ آتے ھیں خدائے پاک اے مولا دعا بس ایک ھے تم سے نمازیں میری جتنی ھیں اور ان کے جتنے پیسے ھیں وہ میری ماں کو دے دینا مصلے پہ وہ جنت میں دعا سی بن کے بیٹھی ھے بڑا ھو کر یہ جانا ھے میری ماں کی بیماری میں جو پیسےتھے دواؤں کے وہ ملتے تھے دعاؤں کے مصلے کے تلے اب کوئی بھی پیسے نہیں رکھتا مگر جو قرض ماں کا ھے وہ تو لوٹا نہیں سکتا —

’’اور یہ روٹی ابا کے لیے۔۔۔‘‘ اس نے مٹی کی روٹی بنا کر توے پہ ڈالی تب ہی بیرونی دروازے پر کھٹکا ہوا تھا۔ نجف نے گردن گھما کر دیکھا۔ ابا اپنی سائیکل سمیت گھر میں داخل ہو رہے تھے اور وہ نہ جانے کس خیال کے تحت بھاگ کر ابا کے پاس آئی تھی اور انکا ہاتھ تھام لیا تھا۔ باپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی یہ معصوم سی کوشش بلکل غیرارادی تھی۔ ’’افوہ ہٹو پیچھے، ہاتھ دیکھے ہیں تم نے اپنے۔۔۔‘‘ ابا نے اسکا مٹی سے لتھڑا ہوا ننھا سا ہاتھ سختی سے جھٹک دیا تھا۔ ’’گھر میں داخل ہوتے ہی منحوس صورتیں سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔‘‘ انہوں نے بازو سے پکڑ کر اسے ایک طرف دھکیلا تو وہ لڑکھڑا کر گر گئی۔ مٹی سے بنے ہوئے برتن اسکے گھٹنوں اور ہاتھوں کے زور سے چور چور ہوگئے تھے۔ اسکی بڑی بڑی شفاف آنکھوں میں آنسو بہت جلد چلے آئے تھے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا ابا صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ چکے تھے۔ گندا سندا عظیم انکی گود میں چڑھا بیٹھا تھا۔ اور ابا شاپر میں سے سیب نکال کر دیتے ہوئے اسکے پھولے پھولے گالوں پر پیار کر رہے تھے۔ درِ نجف کو اس لمحے ابا اور عظیم دونوں ہی بہت برے لگے تھے۔ ’’ابا نے مجھے پیار نہیں کیا، عظیم کو کیا ہے، مجھے سیب نہیں دیا عظیم نے پورا شاپر لیا ہے میں بھی ابا کو روٹی نہیں دونگی۔۔ آج بھوکے رہیں گے وہ۔‘‘ اس نے مٹی کی روٹی کو اپنے ہاتھوں سے مسل دیا۔ ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو پھسل کر اسکے گالوں پر چلے آئے۔ ہونٹ نکال کر بےآواز روتے ہوئے اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرنا چاہے تو مٹی کے کتنے ہی زرات آنکھوں میں گھس گئے۔ نتیجہ :بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں اور اس رحمت کی قدر کرنی چاہئے۔ یہ نازک پھول اور کلیاں ہیں، ان کی خوشبو اور خوبصورتی کو خدا کی نعمت جان کر خدا کا شکر کرنا چاہئے۔۔ان سے جتنا پیار کیا جائے کم ہے، ہر معاملے میں ان کو فوقیت دی جائے۔۔انہیں زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اعتماد دینا چاہئے۔ ماں باپ بننا آسان ہے لیکن اپنی اولاد کی صحیح تربیت اور زندگی سازی کافی مشکل اور صبر آزما کام ہے،اس کو سیکھنا پڑتا ہے جاننا پڑتا ہے۔بیٹی ہو یا بیٹا وہ اپنے ماحول کا عکس ہوتے ہیں صرف ایک چیز ان کی شخصیت کو خوبصورت بناتی ہے اور وہ ہے ماں باپ کی محبت۔۔ والدین خصوصا لڑکی کے والد کو ان باتوں کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ بیٹیاں ماں سے زیادہ باپ کے قریب ہوتی ہیں۔۔ الله پاک اپنی رحمت اور شفقت ہمیشہ ان پر قائم رکھے ۔آمین

ﺍﯾﮏ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﮍﮬﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯﭘﮍﮬﯿﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﺭﺱ ﺳﻨﻨﮯ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﭼﻞ ﺑﺴﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺎ ! ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﻟﻮﮞ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ۔ ” ﯾﮩﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺳﮩﯽ“ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯼ۔ ﻭﮦ ﻣﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﭘﺎﺗﯽ۔ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﯽ ﻣﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺑﺮﯼ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺷﺒﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﺏ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﯿﺎ، ﻣﺎﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﭽﮯ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ‘ ﭼﮑﻨﺎ ﮔﮭﮍﺍ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ‘ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ‘ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺌﯽ ﮐﺌﯽ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﺤﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ‘ ﻣﮩﺮ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﮞﺎﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽ، ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﯿﮏ ﺑﻦ ﺟﺎﻭ ‘ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻻﻋﻼﺝ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ‘ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺖ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﭘﮍﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺎ ‘ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ‘ ﺑﯿﭩﺎ ! ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﻟﯽ ‘ ﺍﺏ ﺁﺧﺮﺕ ﺑﻨﺎﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻟﮯ ‘ﺍﻟﻠﮧ ﺑﮍﺍ ﻏﻔﻮﺭ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮕﺎ ﺟﺐ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﺍ ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ! ﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﺟﺎﻭﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ۔ ﻣﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺱ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻗﯿﻠﻮﻟﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻟﯿﭩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ ‘ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻮﻥ؟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﺎﮔﺮﺩﮦ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﺍﺏ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺁﭖ ﮔﮭﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﯾﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮔﺰﺭﮔﺌﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﯽ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ! ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺷﺎﮔﺮﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﭼﭗ ﮐﺮﮔﺌﯽ ‘ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﺌﯽ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﭼﻮﭦ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﻭﺻﯿﺖ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ؟ ﮐﮩﺎ ﺍﻣﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺻﯿﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﭘﭩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﺎ ‘ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺵ ﮐﻮ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﯿﭩﻨﺎ ‘ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﻻﺵ ﮔﮭﺴﯿﭩﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﮐﮩﺎ ﺍﻣﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ‘ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﯽ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﯽ ‘ ﺭﻭﺡ ﻗﺒﺾ ﮨﻮﮔﺌﯽ ‘ﺍﺑﮭﯽ ﺭﻭﺡ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺎﮞ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻮﻥ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﮩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮔﯿﺎ۔ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺍ ‘ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﻭﻟﯽ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﮮ اللہ ! ﺗﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺮﯾﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔"

Urdu Adab

ﺯﻟﯿﺨﺎ ﻧﮯ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ<br>ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ<br>ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﮯ۔<br>ﺯﻟﯿﺨﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ …

Urdu Adab

...<br>ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﺮ<br>ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ" .. ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺪ ﻧﻈﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﺮﮬﯿﺰ<br>ﮐﺮﻭ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ<br>ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ …

Urdu Adab

" کہتے ہیں ایک شخص ایک عقلمند کے پیچھے سات سو میل' سات باتیں دریافت کرنے کے واسطے گیا۔۔ جب وہاں پہنچا تو کہا !!!<br>ًمیں اتنی دور سے سات باتیں دریافت …

اقوال زریں

ایک فقیر ایک پھل والے کے پاس گیا اور کہا کہ اللہ کے نام پر کچھ د ے دو<br>پھل والے نے فقیر کو گھور کے دیکھا اور پھر ایک گلا سڑا آم اٹھا کر فقیر کی جھولی …

اقوال زریں

بچہ اپنی ماں کے ساتھ دوکان میں داخل ہوا ، دکاندار نے بچےکی طرف دیکھا تو وہ اسے بہت ہی پیارا لگا ،<br>دوکان دار نے ٹافیوں والا ڈبہ اٹھایا اور کھول کر بچے …