anwar zeb

10 Flips | 1 Magazine | 1 Follower | @anwarzeb | Keep up with anwar zeb on Flipboard, a place to see the stories, photos, and updates that matter to you. Flipboard creates a personalized magazine full of everything, from world news to life’s great moments. Download Flipboard for free and search for “anwar zeb”

کیا پختون ہونا جرم ہے؟... جرگہ۔۔۔۔۔سلیم صافی پاکستان ایک ملک ہے لیکن افسوس کہ تمام پاکستانیوں کی قسمت ایک جیسی نہیں۔ آپ اگر غیر پختون پاکستانی ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں پھر اگر آپ وسطی پنجاب اور خصوصا لاہوری پاکستانی ہیں تو آپ اس سے بھی بڑھ کر خوش قسمت ہیں (طیب اردگان کی اسلام آباد کے بجائے لاہور آمد اشارہ ہے کہ لاہور ماشاء اللہ باقاعدہ دارالحکومت ڈیکلیر ہونے جا رہا ہے) اور اگر آپ پختون ہیں تو آپ بڑے بدقسمت پاکستانی ہیں پھر اگر آپ قبائلی پختون ہیں تو آپ اس سے بھی بڑھ کر بدقسمت پاکستانی ہیں ۔پھر اگر آپ وزیرستان میں رہتے ہیں تو آپ اس سے بھی بڑھ کر بدقسمت ہیں۔ یہ پختون اس قدربدقسمت ہے کہ اللہ نے اس کے علاقے کو تزویراتی اہمیت تو بہت دی لیکن اسے تعلیم اور شعور کی نعمت سے نہیں نوازا۔ اس کو اللہ نے ایسی قیادت نصیب کردی جو اسے یا تو قوم پرستی کے سہانے خوابوں کا اسیر رکھتی ہے یا پھر باپ دادا کے قصے سنا کر اس کے پائوں زمین پر جمنے نہیں دیتی۔ اس کے لیڈر اپنے بچوں کو تو امریکہ‘ برطانیہ یا پھر لاہور کے ایچی سن کالج میں پڑھاتے رہے لیکن اس کے بچوں کو کبھی ایک نام پر اور کبھی دوسرے نام پر لڑاتے رہے۔ یہ پختون غریب ہے ‘ لاچار ہے ‘ ان پڑھ ہے اور مرنے مارنے کے سوا کوئی کام نہیں جانتا۔ چنانچہ کوئی اس کی دینی تو، کوئی اس کی ملی غیرت کو بھڑکا کر لڑاتا رہا ‘ کوئی پیسہ دے کر اور کوئی مجبور بنا کرمرواتا رہا۔ نتیجتاً اس کا علاقہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹس کے لئے لیبارٹری بنا رہا ۔ میدان جنگ اس کی سرزمین ہے‘ کاندھا اس کا استعمال ہوتا ہے‘ خون اس کا بہتا ہے‘ مرنے والا بھی وہ ہوتا ہے اور مارنے والا بھی وہ ہوتا ہے لیکن جنگ ‘ اسلحہ اور پیسہ دوسروں کا ہوا کرتا ہے۔ پہلے وہ انگریز اور زار روس کی جنگ کا ایندھن بن گیا پھر وہ اپنی جنگ سمجھ کر امریکہ اور سوویت یونین کی جنگ لڑتا رہا اور اب وہ عالمی اور علاقائی قوتوں کی ہاتھوں مہرہ بن کر لڑ اور مررہا ہے۔ اس پختون اور بالخصوص قبائلی پختون سے کہا گیا (اور امریکہ‘ عرب دنیا‘ پاکستانی جرنیلوں‘ مذہبی سیاسی لیڈروں اور میڈیا وغیرہ نے مل کر اسے کہا) کہ اسلام سرحدوں پر یقین نہیں رکھتا۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنا اور مرنا آپ کا دینی اور قومی فرض ہے۔ یہ جو عرب و عجم سے مجاہدین آئے ہوئے ہیں ان کو اپنے گھروں میں پناہ دینا اور ان کی نصرت کرنا آپ کا دینی‘ اخلاقی اور قومی فرض ہے۔ اس راہ میں اگر آپ زندہ رہے تو غازی قرار پائوگے اور اگر مرگئے تو ہیرو اور شہید ہوگے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ان مجاہدین کے مقابلے میں افغانستان میں طالبان نکل آئے تو کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد کے علماء نے فتویٰ دیا ‘ مذہبی سیاسی لیڈروں نے ترغیب دی اور جرنیلوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اب مجاہدین کے مقابلے میں طالبان کا ساتھ دیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پختونوں اور بالخصوص قبائلی پختونوں نے جلال الدین حقانی اور اسی طرح کے دیگر طالبان لیڈروں کو سر آنکھوں پر بٹھا دیا۔ شمالی وزیرستان افغان مجاہدین کا گڑھ جنرل اخترعبدالرحمٰن اور جنرل حمید گل نے بنایا تھا جبکہ اسے جلال الدین حقانی اور دیگر طالبان کا بیس کیمپ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کی سابقہ حکومتوں میں ان کے جانشینوں نے بنا دیا تھا۔ نائن الیون کے بعد پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ آج کے بعد یہ ہیرو‘ زیرو یعنی یہ طالبان ‘ دہشت گرد ہیں اس لئے مزید ان کا ساتھ نہ دیا جائے۔ گویا پختونوں سے کہا گیا کہ تیس سال انہوں نے جو نظریہ اپنالیا ہے‘ راتوں رات اس کو بدل دیں۔ جنرل علی محمد جان اورکزئی کی سرکردگی میں جنرل پرویز مشرف نے ہزاروں کی تعداد میں فوج قبائلی علاقوں میں تعینات کردی۔ ہر ایجنسی میں ان قبائلیوں نے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا۔ کہا گیا تھا کہ یہ فوج اس لئے وہاں بھیجی جارہی ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے وابستگان پاکستان کے قبائلی علاقوں میں نہ آئیں لیکن یہ اعلانیہ پالیسی تھی۔ درپردہ کچھ اور ہورہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں القاعدہ اور افغان طالبان کے وابستگان قبائلی علاقوں میں آگئے۔ تب میڈیا میں رپورٹس آتی رہیں کہ یہ سب کچھ ہورہا ہے لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا پھر جب معاملہ حد سے آگے بڑھا اور امریکہ کا دبائو بڑھ گیا تو جنوبی وزیرستان اور بعدازاں دیگر قبائلی علاقوں میں کارروائیاں شروع ہوئیں۔ پاکستان بھر میں یہ مشہور کردیا گیا کہ یہ پختون قبائلی دہشت گرد یا پھر دہشت گردوں کے ساتھی ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے ہر شہر میں پختون اور قبائلی کو شک کی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ محرم ہو یا پھر کوئی دوسرا خاص موقع‘ لاہور اور پنڈی میں حفظ ماتقدم کے طور پر چن چن کر قبائلیوں کو اٹھایا اور تھانوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ باقی قبائلی علاقوں کو ایک طرف رکھ کر صرف شمالی وزیرستان کا جائزہ لیتے ہیں تو صورت حال کچھ یوں سامنے آتی ہے کہ یہاں پر افغان طالبان نائن الیون کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں ریاستی سرپرستی یا پھر کم ازکم ریاستی چشم پوشی کی وجہ سے موجود رہے ۔ ہمارے پالیسی سازوں نے افغان اور پاکستانی طالبان کو الگ الگ اکائی باور کرانے کا مفروضہ گھڑ کر اس کو پاکستانیوں کی نظروں میں سچ ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگایا لیکن وزیرستان میں افغانی اور پاکستانی طالبان کبھی الگ نہیں رہے ۔ وہ ایک تھے‘ ایک ہیں اور ایک رہیں گے ۔ ان کا مشن اور مقصد بھی ایک ہے اور امیرالمومنین بھی ایک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی طالبان ‘ افغان طالبان کی چھتری تلے ہی پروان چڑھے۔ وہاں کے عوام یہ سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھتے رہے اور جب عوام کو یقین ہوا کہ ان کی ریاست کسی قوت کے خلاف نہیں تو پھر ان کا دماغ خراب ہے جو ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہی لوگوں کے ساتھ 2007ء میں گورنر علی محمد جان اورکزئی نے معاہدہ کیا اور ان کے لئے تمام ریاستی مراعات بحال کردیں۔ جب ایک طرف وہ جہاد کرکے امریکہ سے لڑرہے ہوں ‘ دوسری طرف وہ مدارس اور مساجد کے انچارج ہوں‘ تیسری طرف ان سے متعلق ریاست کی چشم پوشی بھی ہو تو مقامی قبائل ان کو کاندھوں پر کیوں نہ بٹھائیں۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران وہاں ہزاروں کی تعداد میں فوج موجود رہی ۔ بنوں اور میران شاہ کے درمیان درجنوں چیک پوسٹیں قائم تھیں ۔ شمالی وزیرستان کے باسیوں کو ان پھاٹکوں پر سے گزرتے ہوئے طرح طرح کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا لیکن جب وہ ان سے گزرتے تو طالبان کے زیرکنٹرول ریاست میں داخل ہوتے۔ اس دوران پاکستان میں جہاں بھی طالبان کی کارروائی ہوتی‘ حکمران اعلان کرتے کہ ان کے تانے بانے شمالی وزیرستان سے ملتے ہیں۔ جو بھی اغواء کیا جاتا‘ اسے اسی وزیرستان میں رکھا جاتا۔ یہاں سے طالبان آئے اور بنوں جیل توڑ کر واپس چلے گئے لیکن وہاں پر موجود فوج کو ان کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں تھی۔ اب اچانکہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے ایک حصے میں فوج کی طرف سے کارروائی شروع کی گئی۔ اس سے پہلے نہ تو لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کا کہا گیا اور نہ ان کو راستہ دیا گیا۔ گزشتہ پانچ دنوں سے وہاں پر کرفیو ہے۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ ہورہی ہے ۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہے ۔ لوگ اپنے زخمیوں کو بھی بنوں یا پشاور نہیں لاسکتے ۔ علاقے سے روزگار اور تعلیم کے لئے باہر جانے والے وزیرستانی اپنے اہل وعیال کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہیں ۔ میڈیا کو وہاں جانے اور غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کرنے کی اجازت نہیں۔ ریاستی اداروں کا دعویٰ ہے کہ عسکریت پسندوں کو مارا گیا ہے لیکن علاقے کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی لوگ درجنوں کی تعداد میں مرے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق‘ جنرل پرویز مشرف ‘ جنرل علی محمد جان اورکزئی اور جنرل حمید گل وغیرہ یا پھر میاں نوازشریف ‘ آصف علی زرداری‘ سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمٰن وغیرہ کی غلطیوں کی سزا پختون یا قبائلیوں کو کیوں دی جارہی ہے؟ سوال یہ ہے کہ حکومت کے ان مذاکرات کے دعووں کا کیا ہوا اور اگر آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو اس کا اعلان کرکے مقامی لوگوں کو وہاں سے نکالا کیوں نہیں جارہا؟ کیا پختون یا قبائلی ہونا اس ملک میں جرم قرار پایا ہے اور کیا ہمارے حکمران یہ چاہتے ہیں کہ ہر پختون یا کم ازکم ہر قبائلی طالب بن جائے؟

Log In or Sign Up to View

This Facebook post is no longer available. It may have been removed or the privacy settings of the post may have changed.

نیمګړی ارمانونه

Sherwali Khan